براہوئی لفظ کی وجہ تسمیہ‘ معنی‘ قدامت اور تاریخی پس منظر

Brahui Laftz Word

براہوئی لفظ کی وجہ تسمیہ‘

معنی‘ قدامت اور تاریخی پس منظر

براہوئی قوم و زبان ایک شاندار کلچرو تہذیب کی مالک ہے ۔ اس لیے ا س پرفخر کرنا قدرتی امر ہے۔ لہٰذا ’’براہوئی‘‘ عرصہ سے زیرِ بحث رہا ہے اور رہے گا۔ یہان پر بحث سے مرادتحقیقات و توضیحات وغیرہ کے ہیں۔
ہم اپنی بات ان محققین کی طرح بے سروپا‘غیر تحقیقی بنیادوں پرتھوپ نہیں سکتے جن کا اصل مقصد وقتی سیاسی مفادات کے حوالے سے جانبدارانہ ہیں بلکہ ان کی تحقیقات و توضیحات کو ٹھوس حقائق ‘ منطقی دلائل اور معروضی شواہدکی بنیاد پرجانچ پرکھ کر پیش کرتے ہیں۔اس لیے سب سے پہلے لفظ ’’براہوئی‘‘ سے بحث شروع کرتے ہیں کہ’’براہوئی لفظ کی بنیاد‘معنی‘ قدامت اور تاریخی پسِ منظر پربعض محققین اور قلم کاروں نے توضیحات اور تحقیقات پیش کی ہیں وہ نہ صرف ایک دوسرے سے متفق نظر نہیں آتے بلکہ انتشار کا شکار بھی ہیں۔ لہٰذا جہاں تحقیق کا مقصد حقیقت سے ہٹ کر ایک غیر حقیقی مقصد حاصل کرنے کے لیے ہو تو وہاں ان کا ایک حتمی نتیجے پر پہنچنا ممکن نہیں۔ آئیے ہم ان باتوں کا جائزہ درج ذیل میں لیتے ہیں۔

الف: براہوئی(Bra-hu-i: برا۔ہو۔ئی)

ہنری پوٹنجر نے براہوئی کی بنیادلفظ’’بروہ‘‘کو قرار دیاہے۔ اس سلسلے میں وہ’’ بُہ ‘‘ بمعنی ’’پر‘‘ اور ’’روہ‘‘ بمعنی ’’پہاڑ‘‘ یعنی پہاڑوں پر رہنے والے لوگوں سے مراد لیتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’یہ نام ان (براہوئیوں)پر اس لیے پڑا کہ بُروہیوں (براہوئیوں)نے پہاڑوں میں آکر بود و باش اختیار کی۔

“but their persuits and way of domestic life afford the strongest reson for believing that they were originally mountaineeerrs; and same among themselves affirm, that their very name demonstrates this by its signification, being a compound of the affix Bu, on ; and Roh, a word said to mean a hill. “(1)

ان کا اشتقاق صحیح نہیں اسلیے کہ ’’ بُہ ‘‘کس زبان کا لفظ ہے ۔اس بارے میں انھوں نے کچھ نہیں لکھا ہے۔ البتہ انھوں نے ’’ بُہ‘‘ کے معنی ’’on‘‘ یعنی ’’پر‘‘ لکھا ہے ۔جس کا فارسی زبان میں ہم معنٰی لفظ ’’ بَر‘‘ ( اوپر‘ آغوش‘ پھل‘ بلند‘ چوڑائی‘ نفع‘ طرف‘ یاد‘ حفظ اور جوان عورت) ہے۔(۲) اگر ’’ بُہ‘‘ اور ’’روہ‘‘ سے مطلب نکالا جائے تو بُروہ لفظ بنتا ہے۔ اس سے پہاڑ پر رہنے والے کا مطلب نہیں نکلتا جب تک ان میں صفتی لاحقہ ’’ای‘‘ نہ لگایا جائے۔ اگر اسے لگایا جائے تو پھر ’’بَروہی‘‘ یعنی پہاڑ کے اوپر رہنے والے لوگ معنی نکلتا ہے۔ مگر اصل لفظ ’’ بُروہی‘‘ (Buro-hee)یا’’ بَروہی‘‘ (Baro-hee) نہیں بلکہ ’’بِروہی‘‘ (Biro-hee) ہے (اس پر آگے بحث ہوگا) ۔بَروہی لفظ کیسے بِروہی میں تبدیل ہوا؟ اس کا انہوں نے کوئی لسانیاتی اور تاریخی ثبوت نہیں دیا ہے۔ حالانکہ براہوئیوں کواس نام سے غیر براہوئیوں نے پکاراہے۔ براہوئی خود کو کبھی بھی ’’بَروہی‘‘ نہیں کہتے البتہ سندھ کے براہوئی سندھیوں کے پکارے ہوئے نام ’’بِروہی‘‘کواختیار کرتے ہیں لیکن آپس میں ایک دوسرے کو ’’بِروہی‘‘ کے برعکس ’’بِراہوئی‘‘کہتے ہیں۔ جبکہ کچھ براہوئی سندھی لفظ بِروہی کے تلفظ کو ’’بُروہی‘‘بھی ادا کرتے ہیں ۔

جیمس ٹاڈ‘ براہوئی لفظ کی بنیاد براہا (Braha) قرار دیا ہے اور پوٹنجر کے حوالے سے  ان کو بلوچستان کے رہنے والے بتایا ہے۔ اس نے اصل لفظ ’’براہا‘‘ (Braha) دیا ہے۔ براہا کا ’’آ‘‘ مصوتہ کیسے حذف ہوکر ’’اوئی‘‘ یعنی براہوئی(براہ+اوئی) میں تبدیل ہوا۔ کوئی ثبوت نہیں دیا ہے۔(۳) چارلس میسن‘ ٹاڈ کے لفظ کو زیر بحث لاکر پھر براہوئی لفظ کو ’’با228روہ228ای‘‘ کا مرکب بتاکر اسی کی معنی دشت باریہ کے اور ہم مخلوق بروہی یعنی اہل بادیہ قرار دیا ہے۔چارلس میسن نے جو اشتقاق دیا ہے اس سے ’’باروہی‘‘ یا بَروہی لفظ بنتے ہیں۔ مگر اصل لفظ ’’بِراہوئی‘‘ ہے جس پر انہوں نے کوئی بحث نہیں کیا ہے۔(۴) ہیوگز بُلر بھی کسی حد تک اس کی تقلید کرتا ہے۔(۵) سی ایف منچن‘ بلوچی زبان میں ’’براہوئی‘ جدگال جنگ‘‘ شعر جو ۳۲۲ بندوں پر مشتمل ہے دیا ہے۔ جس میں براہوئی لفظ کے برعکس ’’براہُو‘‘ (Brahoo) لفظ استعمال ہوا ہے اور اس نے براہُو کو ابراہیم تصور کرکے حضرت ابراہیم علی السلام یا براہوئیوں کا جدامجد ابراہیم نامی تھا کو براہوئی یا بروہی (ابراہیم< براہیم< براہو< بروہی< یا براہوئی) بگڑی ہوئی صورت قرار دیا ہے۔(۶) ہیوگز بُلر اسی سے متفق نظر آتے ہیں۔(۷) مولائی شیدائی بھی اس سے مکمل طور پر اتفاق کرتا ہے۔(۸) رائے بہادر ہتو رام ایک طرف سی ایف منچن سے متفق نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف وہ براہوئی لفظ کو حلب کے علاقہ ’’بروہ‘‘ میں سکونت پذیر ہونے کی وجہ سے بگڑ کر بروہی مشہور ہوئے/ ہوا‘دیا ہے(۹) ڈینس برے ‘براہوئی لفظ کی بنیاد کے بارے میں تذبذب کا شکار ہے۔ ایک طرف براہوئی لفظ کو با‘روہ‘ای (یعنی پہاڑی لوگ) کا مرکب بتاتا ہے۔ جیسے کہ پوٹنجر اور میسن نے لکھا ہے دوسری جانب ناروہی یا میدانی لوگ کا ضد یعنی پہاڑی لوگ قرار دیا ہے۔ تو تیسری طرف حلب (Aleppo) میں بارویا (Biroea) علاقہ میں بود و باش رکھنے کی وجہ سے براہوئی مشہور ہوئے‘ قرار دیا ہے۔ جس طرح رائے بہادر ہتو رام نے پہلی مرتبہ مفروضہ قائم کیا تھا۔چوتھی طرف وہ سی ایف منچن سے متفق نظر آتے ہیں کہ براہوئیوں کے جدامجد ابراہیم سے براہیم اور براہو سے براہوئی لفظ وجود میں آیا۔ (۱۰) ایم ایس آندرونوف نے براہوئی لفظ کی بنیاد کوابراہیم سے براہیم اور براہو سے براہوئی کے خیال کو رد کیا ہے وہ تحریر کرتا ہے کہ:

“Tracing Brahui to the proper name Ibrahim, so popular among the Brahuis themselves, is merely a case of folk etymology linked with the adoption of Islam…….(11)”

رائے بہادر ہیتو رام اور ڈینس برے نے براہوئیوں کا بروہ‘ برویہ یا بارویہ ندی پر رہنے کی وجہ سے بارویہ سے برویہ یا براہوئی مشہور ہونے کے طرف اشارہ کیا ہے جو صحیح نہیں کیونکہ بارویہ سے برویہ بنتا ہے بروہی یا براہوئی نہیں بنتااور’’یہ‘‘ کیسے ’’اوہ‘‘ میں تبدیل ہوا یہ بتا نہیں سکے ہیں اور نہ ہی ’’اویہ‘‘ کا ’’اوہ‘‘ میں تبدیلی کا براہوئی زبان میں کوئی ثبوت پایا جاتا ہے۔
دراصل برویہ‘ بارویہ (Biroea) یا بروہ کسی ندی کا نام نہیں بلکہ بردی (Bardee) نام سے ایک نہر کا نام ملتا ہے جسے کبھی کبھار بردیا (Bardiya) بھی کہتے ہیں جو دمشق کو ہزاروں سالوں سے سیرآب کرتی ہے۔ اس کا توریت میں نام ’’ابانہ‘‘ آیا ہے۔ دمشق کو سات نہریں آباد کرتی ہیں جن میں نہر یزید‘ نہر دبرانی‘ نہر ثورا‘ نہر قوات‘ نہر بانیاس‘ نہر عقربہ اور نہر بردی شامل ہیں۔ ان میں نہر بردی سب سے بڑی ہے باقی چھ نہریں بردی کی شاخیں ہیں۔ یہ نہر دمشق کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہوئی مغرب سے مشرق کی طرف بہتی ہے۔ یہ دمشق کے قلعہ باب السلام دروازہ کے سامنے بہتی ہے۔

انہی نہروں کے کچھ ناموں کو عماد ابو عبداللہ محمد بن محمد الاصفہانی نے بہترین پیرایہ میں ایک شعر میں قلمبند کیا ہے:

الی ناس باناس لی صبؤۃ
لھا الوجد داع و ذکری مشیر
یزید اشتیاقی و ینموکما
یزید یزید و ثورا ایثور
و من بردی برد قلبی المشوق
فھا انا من صرّہ مستجیر(١٢)

براہوئیوں کو حلب (Aleppo) سے آنے والے اور عرب قرار دینے کے مفروضہ کو سی نارایَن راؤ رد کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:

“The Brahui say their ancestors came from Aleppo, but there is no evidence to conform this……….”(13)

جین ہوبن نے بھی اس مفروضہ کو غلط قرار دیا ہے۔

“The value of the tradition is weakened by the claim that the Brahuis came from Aleppo, in present day Syria, but this element may reflect a later “Islamization” of an earlier tradition according to which the Brahui are immigrants to the area.”(14)

جی پی ٹیٹ‘ براہوئی لفظ کی بنیادی صورت نہیں دیتابلکہ معنی کے حوالے سے لکھتا ہے کہ براہوئی کے معنی پہاڑی قبائل اور مرد کوہستانی ہے۔ سندھ میں بروہی لفظ عموماً قلات کے پہاڑی باشندوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہی غالباً اس لفظ کی ممکنہ تشریح ہے۔(۱۵)
جوزف البائن جو ہمیشہ اپنی تحقیق میں براہوئی نسل‘ زبان اور کلچر کو ہند یورپی بالخصوص بلوچ قرار دیتا رہا ہے۔ وہ ’’براہوئی‘‘ لفظ کو قدیم ماننے سے انکار کرتا ہے اور ہنری پاٹنجر‘ جیمس ٹاڈ‘ چارلس میسن اور ہیوگز بلر کا نقل کرتے ہوئے ’’براہوئی‘‘ لفظ کی بنیادکو سندھی الاصل لفظ ’’بروہی‘‘ قرار دیتاہے۔ آسکوپارپولا بھی جوزف البائن کے غیر علمی اور غیر مستند لسانی تحقیق پر بھروسہ کرتے ہوئے غلط تحقیق کا شکار ہواہے۔وہ البائن کے حوالے سے لکھتا ہے کہ:

“As the Brahui themselves explain, their ethnic name in all probability denotes just one branch of the Balochi tribe……. the word “Brahui” (older Brahoi) is almost certainly a modern term, taken from the siraiki “jatki” braho, the local form of Ibrahim, to which the Balochi -i- ajd, suffix has been added, as is usual, to form an Ethicon. As for is in known, this ethicon was first used in the 16th C. to refrer to a now vanished tribe of Balochi, the Ibrahimi who dwelt amongst the jatts of Awaran in Pakistani, Makran………….”(15)

البائن اور آسکوپارپولا کی باتیں صحیح نہیں ہیں کیونکہ براہوئی لفظ کی اصل صورت ’’بروہی‘‘ نہیں اور نہ ہی ’’ابراہیمی‘‘ کی تبدیل شدہ صورت ہے۔ اس خیال کو آندرونوف نے رد کیا ہے جس کا حوالہ اوپر پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ لفظ سو لہویں صدی میں پہلی بار استعمال ہوا ہے۔
نامور سیاح اور مؤ رخ ابن حوقل( ۹۵۰ء) اپنی کتاب میں بھی ’’زِم بروہی‘‘ کے الفاظ ’’قوم بروہی‘‘ کے معنوں میں واضح استعمال کیا ہے۔
مقامی قلمکاروں نے ۱۹۳۰ء کے بعد انگریزوں کی تحقیق کو سامنے رکھتے ہوئے اور کچھ اپنے نئے مفروضے شامل کرکے براہوئی لفظ کی بنیاد‘ وجہ تسمیہ‘ معنی اور قدامت پیش کیے ہیں۔
مولوی دین محمد‘ سی ایف منچن اور ہیوگز بلر سے متفق نظر آتے ہیں۔(۱۷) میرگل خان نصیر‘ کہتا ہے کہ براہوئی ایران میں واقع ’’بُرزکوہ‘‘ پہاڑ پرایک زمانے میں سکونت اختیار کی جس کی وجہ سے ’’برزکوہ‘‘ لفظ مقامی دراوڑی زبانوں یا زبان (جس کا انھوں نے واضح اشارہ نہیں دیا ہے) کی اثر سے ’’برزکوہی (براہوئی)‘‘ صورت اختیار کی۔ ’’برزکوہ‘‘ کیسے براہوئی یا بروہی میں تبدیل ہوا؟ اس بارے میں وہ خاموش ہیں۔ اس تفصیل کے لیے کتاب کا تیسرا باب ملاحظہ ہو۔(۱۸) صالح محمد لہڑی بھی گل خان نصیر سے متفق نظر آتے ہیں۔ (۱۹) محمد سردار خان گشکوری بلوچ‘ براہوئی لفظ یا ان کی سندھی صورت بروہی کو قدیم ماننے سے انکار کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ لفظ نادرشاہ سے کچھ پہلے علاقہ میں مستعمل ہوا۔ لفظ بروہی (پہاڑوں کا باسی) سے بگڑ کر بنا ہے۔ آج بھی سندھ میں بروہی (با228روہ228ی: معنی پہاڑی آدمی) کے معنی قلات کے پہاڑی علاقے کے لوگ لیا جاتا ہے۔(۲۰) محمدسردار خان ‘براہوئی لفظ کو گل خان نصیرکے حسب ذیل جملوں
’’میرچاکر اور میرگوہرام کو محض بلوچی رقابت اور ذاتی تعصب نے میرعمر کے خلاف لڑنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔۔۔۔ لیکن کئی وجوہات کی بنا پر وہ قلات میں بیٹھ کر حکومت نہیں کرسکتے تھے۔ سب سے پہلی وجہ یہ تھی کہ میرچاکر اور میر گوہرام کو حکومت کرنے کا کوئی سلیقہ نہیں تھا۔ اپنے آزاد قبائل کے ساتھ پہاڑوں اور وادیوں کو لوٹنا اور غارت کرنا‘ ان کو ایک جگہ بیٹھ کر حکومت کرنے سے زیادہ پسند تھا۔ وہ پیدائشی خانہ بدوش تھے۔ کسی  جگہ پر جم کر بیٹھنا اور حکومت کرنا ان کی آزاد طبیعت پر بوجھ معلوم ہوتا تھا۔ صحرا اور کوہستان کی فضا کو وہ شہر کی پابند زندگی پر ترجیح دیتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(۲۱) ‘‘
کی وجہ سے قدیم ماننے سے انکار کرتے ہیں کیونکہ وہ گل خان نصیر کے مندرجہ بالا جملوں سے سخت نالاں تھے۔جس کی وجہ سے محمد سردار خان نے گل خان نصیر سے بدلہ لینے کے لیے اپنی تاریخ ’’بلوچ قوم کی تاریخ‘‘ میں براہوئیوں ‘ براہوئی حکمرانوں ‘ کلچر اور لوگوں کو اصل بلوچوں سے کم تر اور نچلے درجے کے لوگ قرار دے کر اپنی بھڑاس نکالی اوربراہوئیوں کو بلوچوں سے علیحدہ اورمختلف قوم قرار دے کر دراوڑ قرار دیا۔
محمد سردار خان ‘براہوئی لفظ کو برہو یا براوؤ سے جوڑ کر اس کو اصل شکل قرار دیتا ہے۔ اور اسے گجراتی جاتی کی ایک شاخ جسے امیر خُسرو نے براوؤ یا براؤ لکھا ہے قرار دیا ہے۔وہ کہتا ہے کہ بلوچی لاحقہ عموماً ’’وی‘‘ یا ’’ای‘‘ ہے اور براوؤ کی جمع براوؤئی یا براؤئی ہے۔ آج کل بھی براہوئی اپنے آپ کو براوؤئی کہتے ہیں۔ (۲۲) گوجر یا گرجر قبیلہ (جو اصل میں ستھین ہیں) میں ایک ذات (Caste) براہ ہیں (۲۳) انور رومان‘ گل خان نصیر اور محمدسردار خان گشکوری کی توضیحات اور تشریحات سے متفق نظر آتے ہیں۔(۲۴) گل خان نصیر ۱۹۶۸ء کے بعد اپنے ’’برزکوہی‘‘ مفروضہ سے ہٹ کر سردار خان گشگوری کے پیش کردہ وجہ تسمیہ سے متفق ہوگئے ۔(۲۵) میراحمد یار خان (جو خود براہوئی اور آخری براہوئی تاجدار تھے) بھی براہوئی لفظ کی بنیاد اور معنی کو صحیح طرح سے پیش نہ کرسکے ہیں۔ وہ بھی مبہم طور پر سی ایف منچن‘ ہیوگز بلر اور گل خان نصیر سے متفق نظر آتے ہیں۔ (۲۶)
میر عاقل خان مینگل کا کہنا ہے کہ اصل کرد وں نے مقامی سیوازئی لوگوں کے ساتھ مل کر مغل اور جاٹوں کے خلاف ایک اتحادبنایا جو بعد میں ’’براہوئی‘‘ کے نام سے مشہور ہوا اور ’’براہوئی‘‘ نامی اتحاد یا لفظ ’’براہیم‘‘ (یعنی بھائی) لفظ کی تبدیل شدہ صورت ہے۔ براہوئی لفظ ۱۵۱۵ء یا اس سے کچھ عرصہ پہلے مستعمل ہوا۔(۲۷)
پہلی بات تو یہ ہے کہ مغلوں کے دور ۱۵۱۵ء میں کسی سیوازئی قبیلہ کا وجود نہ تھا۔ ان کا دور عربوں سے پہلے تھا نہ کہ مغلوں کے دور میں ۔وہ رائے خاندان کی طرف سے قلات اور خضدار علاقوں کے گورنر تھے ۔ دوسرا یہ کہ ابراہیم ‘عبرانی زبان کا لفظ ہے‘ جس کے لغوی معنی ’’آزاد بندہ‘‘ ہے نہ کہ بھائی۔ میر عاقل خان مینگل کا یہ مفروضہ سی ایف منچن‘ رائے بہادر ہتو رام اور سردار خان گشکوری کے مفروضوں کی کھچڑی ہے۔
ملک محمد سعید دہوار‘ براہوئی لفظ کو ’’وراہو ‘‘یا ’’وراہہ‘‘ کی بگڑی ہوئی صورت قرار دیا ہے۔ اگر براہوئی لفظ ’’وراہو‘‘ یا ’’وراہہ‘‘ کی بگڑی ہوئی صورت ہے تو یہ براہوئی لفظ میں کیسے ڈھل گیا؟ اس کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیاہے یہ بھی ایک ظَنی مفروضہ ہے۔ مقامی عام لکھاریوں نے براہوئی یا بروہی لفظ کے ساتھ تھوڑا سا بھی صوتی اشتراک دیکھا تو اسی وقت بغیر کسی تحقیق اور چھان بین کے اپنا ظنی مفروضہ پیش کیا۔(۲۸) ڈاکٹر عبدالرحمن براہوئی‘ براہوئی لفظ کو قدیم فارسی کا لفظ قرار دے کر اس کے معنی پہاڑی آدمی یا باجگر قراردیا ہے اور کہا ہے کہ سندھی میں ’’روہ‘‘ کے معنی پہاڑ اور روہی کے معنی پہاڑی خطوں میں رہنے والاہے۔ وہ براہوئی لفظ کی ایک اور وجہ تسمیہ کے طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ جب نوشیروان بلوچوں کے اس قبیلے سے تنگ آگیا تو انھیں وہاں سے نکالنے لگا۔ ایرانی ان بلوچوں سے کہنے لگے کہ ’’بُرو‘‘ یعنی نکل جاؤ تو ان میں سے ہر ایک نے اپنی طرف اشارہ کرکے کہنے لگا کہ ’’ای‘‘ یعنی میں‘ ان الفاظ کی نسبت سے بلوچوں کے اس طائفہ کا نام ’’برو228ای‘‘ یعنی بُروہی یا بِروہی مشہور ہوا۔ ڈاکٹر عبدالرحمن براہوئی‘ براہوئی زبان کے نامور اسکالر اور محقق ہیں۔ انہوں نے گل خان نصیر کے سیاسی ’’برزکوہی‘‘ مفروضہ کو نہ سمجھ کر بُرو-ای<بروہی کے مفروضہ کااختراع کیا۔ براہوئی نام کا نوشیروان کے دور سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسے مفروضے یا قصے منگھڑت ہیں۔(۲۹) عزیز مینگل نے براہوئی لفظ کو ہندی قرار دے کر ’’براویک‘‘ (جمع کی صورت) پیش کی ہے اور اس کی تفصیل میں “Name of a class of hereditary watchman near the Siwalik hill” لکھا ہے۔(۳۰)

 مندرجہ بالا توضیحات اور تشریحات مقامی ‘ ملکی اور غیر ملکی محققین اور قلم کاروں کے براہوئی اور بروہی الفاظ کی بنیاد‘ وجہ تسمیہ معنی اور قدامت کے بارے میں ہیں۔ ان کے تحقیقی مطالعے سے حسب ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:

۱۔ براہوئی: برزکوہی لفظ کی تبدیل شدہ صورت ہے۔
۲۔ براہوئی: ابراہیم‘ براہیم لفظ سے تبدیل ہوکر بنا ہے۔
۳۔ براہوئی: حلب میں واقع ’’برو یا‘‘ یا’’ باریہ‘‘ ندی کی بدلی ہوئی شکل ہے۔
۴۔ براہوئی: فارسی اور سندھی الفاظ ’’با228روہ228ای‘‘ کا مرکب ہے۔
۵۔ براہوئی: راجپوتوں کے براہا یا براہہ قبیلہ ہے۔
۶۔ براہوئی: گجروں کی ایک ذات ’’براؤ ‘‘یا ’’براہ‘‘ ہیں۔
۷۔ براہوئی: لفظ وراہ یا وراہا کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔
۸۔ براہوئی: قدیم فارسی لفظ ’’برو228ای‘‘ کی تبدیل شدہ صورت ہے۔
۹۔ براہوئی: سِوالک پہاڑوں میں پُشتوں تک پہرے دار ہیں۔
مندرجہ بالا سارے قلمکار اپنے اپنے توضیحات اور تشریحات خالی خولی باتوں پر رکھی ہیں۔در اصل براہوئی لفظ کی بنیاد اورتاریخی پس منظر کو حقیقت کی نگاہ سے ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ براہوئیوں کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ قدیم دراوڑ ہیں۔ مہرگڑھ اور سندھ تہذیب کے خالق ہیں۔ جیسا کہ ایک جگہ لکھا ہے:

“The Peoples of Mehrgarh were Brahuis and were the first people who created the Indus civilization.”(31)

پیرومریگی کہتا ہے:

“The langauge of the inhabitants of the Indus valley as proto-Brahui.”(32)

کامل زویلیبل لکھتا ہے:

“Brahui is an ethnolinguistic remnant of the original Harappan population………”(33)

خود براہوئیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اس سرزمین کے اصلی باشندے ہیں۔ جیسے کہ جیمس مناہن لکھتے ہیں:

“According to Brahui traditions escaped the Aryan onslaugh as the Aryans bypassed their home land to move farther east………..”(34)

جب کہ براہوئیوں کے برعکس بلوچ دور جدید میں قدیم ریاست قلات یا براہوئی ریاست میں قدم رکھا۔ جیسا کہ میک کول لکھتے ہیں:

“The Baloch who gave their name to province are comparatively recent arrivals. The apparently entered Baluchistan in the 11th and 12th centuries, being driven out of persia by the seljuks………….”(35)

رابرٹ گورڈن لیتھم‘ براہوئیوں کو بلوچستان کے مقامی باسی اور بلوچوں کو نووارد اور مہاجر قرار دے کر لکھتا ہے کہ:

“In the country, however, which they now occupy, the Brahui consider themselves aboriginal, the Biluch admitting that the are themselves foreign origin………..”(36)

اگر واقعی براہوئی ایک قدیم نسل اور زبان سے تعلق رکھتے ہیں تو قدیم دور میں ان کا نام کیا تھا؟ ان کو کس نام سے لکھا اور پکارا جاتا تھا؟
مندرجہ بالا حقائق سے ہٹ کر جب ہم مقامی لکھاریوں کے کتب یا تحاریر کا مطالعہ کرتے ہیں توان کے مطابق براہوئی یا بروہی الفاظ جدید دور کے آریائی ہیں اور قدیم دراوڑ نہیں۔ وہ دنیائے لسانیات‘ ماہرین آثار قدیمہ اور علم البشریات کے رپورٹوں اور مستند تاریخی حقائق کو متنازعہ سیاسی مسئلہ بنانے کے لیے ان پر “Divide and rule” کا ٹھپا لگا کر قارئین اور عالموں کے ذہنوں کو اصل حقیقت پڑھنے اور سمجھنے سے روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
ایم ایس آندرونوف پہلا مستشرق ہے جنھوں نے پہلی بار ’’براہوئی‘‘ یا ’’بروہی‘‘ الفاظ کو شک کی نگاہ سے دراوڑی الاصل قرار دینے کااشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:

“It is possible that Barohi was an Iranian translation loan word copying the Dravidian name133133133133.”(37)

ڈاکٹر مظفر حسن ملک نے بھی اسی طرح کا اشارہ دیا ہے کہ:
’’اکثر براہوئی قبائل کے نام تو دراوڑی زبانوں میں تلاش کئے جاسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘(۳۸)
مندرجہ بالا محققین کے تحقیق طلب نکات کی رو سے ہم’’براہوئی‘‘ اور ’’بروہی‘‘ ناموں کی بنیاد اور وجہ تسمیہ کو آریاؤں سے قبل دراوڑوں کے دور میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ براہوئی لفظ کی وجہ تسمیہ‘بنیاد‘ قدامت اورتاریخی پس منظر معلوم ہوسکے۔
مندرجہ بالا سارے مقامی ‘غیر ملکی محققین اور قلمکاروں کے برعکس سرہولڈچ‘ ہیروڈوٹس کے حوالے سے براہوئی لفظ کی بنیادی صورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تحریر کرتا ہے کہ:

“Herodotus mentions only the parikanoi and Asiatic Ethipian. Parikan is the Persian plural form of the Sanscrit parva-ka, which means “mountaineer”. This bears exactly the same meaning as the word kohistani, or Barohi133133133.. although latter may possible have developed into the Brahui133133….”(39)

ہولڈچ آگے بیلیو کے حوالے سے مزید تفصیل کے ساتھ براہوئی یا پرواکہ (Parvaka) لفظ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتا ہے کہ:

“Herodotus gives the parikanoi and Asiatic Ethopians as being the inhabitatns of the seventeenth satrapy of the Persian Empire, and Bellew suggests that the Greek parikanoi is Greek transcription of the Persian form of parikan, the plural of the Sanscrit prava-ka, or in other words, the Ba-rohi or men of the hills133133133133.”(40)*

*: کچھ قلم کار سر ہولڈچ کے مندرجہ بالا دونوں حوالہ جات کو بغیر حوالہ کے اپنی کتابوں میں اردو ترجمہ کرکے اپنی تحقیق ظاہر کی ہے اور قارئین کو باور کرایا ہے کہ وہ اُن کی اپنی تحقیق ہے حالانکہ یہ علم اورتحقیق سے بددیانتی ہے۔ن ش ب

ہولڈچ اور بیلیو کی مندرجہ بالا باتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پَرواکہ (Parvaka) سنسکرت لفظ ہے جوفارسی زبان کے پاریکان (Parikan) لفظ کا جمع ہے اور پریکنوئی (Parikanoi) فارسی لفظ کی یونانی صورت ہے۔ جس کے معنی شمالی پہاڑی لوگ یعنی Mountaineers کے ہیں ۔یہ لفظ براہوئی یا بروہی الفاظ کی بنیادہے۔
رحیم داد مولائی شیدائی‘ ہولڈچ اور بیلیو کی تحقیق کو دہراتے ہوئے لکھتا ہے کہ:
’’کرنل سرتھامس ہنگر فورڈ ہالڈچ نے مکران کے قدیم نقشے میں اوریتی (لس بیلہ) کے شمال مغربی خطے کو پارکونوئی کا نام دیا ہے۔ بعض روایات یہ بیان کرتے ہیں کہ یہی قدیم لفظ (پاروکونوئی) صوتی تغیر کے بعد براہوئی بنا۔ بعض مستشرقین کا بیان ہے کہ (پارکونوئی) سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ جو دو الفاظ ’’پار‘‘ اور ’’کان‘‘ کے مرکب سے بنا ہے۔ یعنی سنسکرت میں ’’پارکا‘‘ کے معنی ہیں۔ پہاڑی لوگ یا پہاڑ کے رہنے والے۔۔۔۔‘‘(۴۱)
رحیم داد شاہوانی براہوئی واضح طور پر یونانی لفظ ’’پاریکنوئی‘‘ کو ’’براہوئی‘‘ کی بگڑی ہوئی صورت قرار دیا ہے۔ وہ رقمطراز ہے کہ:
’’جیسا کہ براہوئی لفظ یونانی زبان کی پاریکنوئی لفظ کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔۔۔۔۔۔۔‘‘(۴۲)
ہولڈچ‘ بیلیو کے حوالے سے اور رحیم داد‘ بیلیو اور ہولڈچ کے حوالے سے ’’پرواکہ‘‘ لفظ کو ’’براہوئی‘‘ کا سنسکرتی روپ قرار دیتے ہیں مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ ہند آریائی زبان؍ زبانوں میں ’’و‘‘ کی آواز موجود تھی لیکن اس کے برعکس قدیم ایرانی یا اوستائی زبان میں ’’و‘‘ کی آواز کو ’’ب‘‘ اور ’’پ‘‘ میں تبدیل کرنے کا عام استعمال تھا۔ جیسے کہ:

قدیم ہند آریانی

قدیم ایرانی؍ اوستا

د۔ وے ش سا

ت، بَ اے شن ہا

اَش وَ

اسپو

ہ۔ وَ یامی

ز۔ ب۔ یے۔ می

اسی حوالے سے سدھیشور ورما لکھتا ہے کہ:
’’متعدد حروف صحیح کے بعد قدیم ایران میں ’’و‘‘ کی ’’ب‘‘ یا ’’پ‘‘ ہوگئی تھی۔ سنسکرت میں ’’و‘‘ برقرار رہی ۔۔۔۔۔۔۔‘‘(۴۴)
عرفان حبیبی بھی ایسی ہی رائے رکھتے ہیں۔ وہ رقمطراز ہے :

“In the Indo-European family, the word for “horse” is ashva in vedic Sanskrit and aspa in Avesta. Since the Avestan language attested a change from v to p……”(45)

اسی طرح قدیم ایرانی یا اوستائی زبان میں معکوسی آواز ’’ڑ‘‘ ناپید تھی جبکہ قدیم ہند آریائی زبانوں میں موجود تھی جو دراوڑی زبانوں کے اثر کا نتیجہ تھا۔ قدیم ایرانی یا اوستا زبان میں ’’ڑ‘‘ کی آواز کو ’’ر‘‘ میں تبدیل کیا جاتا تھا جیسے کہ:
قدیم ایرانی ؍ اوستا: گ اِ رِ کم
قدیم ہند آریائی: گرری نڑام(۴۶)
مندرجہ بالا لسانیاتی شواہد کے مطابق ’’پرواکہ‘‘ لفظ ’’وڑاکوئی‘‘ کا سنسکرتی یا ہند آریائی روپ نہیں بلکہ قدیم ہند ایرانی؍ اوستائی روپ ہے کیونکہ اوستا زبان بولنے والے ’’وڑاکوئی‘‘ لفظ کے آواز ’’و‘‘ کو ’’پ‘‘ اور ’’ڑ‘‘ کو ’’ر‘‘ میں تبدیل کرکے ’’پرواکہ‘‘ لفظ میں تبدیل کیا۔ پرواکہ‘ وڑاکوئی لفظ کا اوستائی روپ ہے اور دونوں کے معنی شمالی پہاڑی لوگ کے ہیں۔
ایران میں ایک پہاڑ ’’برزکوہ‘‘ ہے۔ ’’برزکوہ‘‘ یا ’’برزکوہی‘‘ لفظ یا نام ’’وڑاکوئی‘‘ کا میانہ فارسی روپ ہے۔
’’برز‘‘ کو فارسی میں راستخی کوہی البرز کہتے ہیں۔ یہ پہاڑ ایران کے شمال میں پانچ سو ساٹھ میل لمبا‘ ہلال چاند یعنی کمان جیسی شکل میں موجودہے۔ مشرق میں روس کی سرحد‘ جنوب و مغرب میں کیپسین سمندر‘ جنوب مشرق میں خراسان صوبہ کے الداغ تک سمندر میں گم ہوجاتا ہے۔ اس کے جنوب میں بڑے پہاڑی سلسلے ہیں۔ شمال مغرب میں سفید رج گاج‘ سمندر کے جنوب مغرب میں تالیش یا باگروداغ کے پہاڑی سلسلے ہیں۔ اس بڑے پہاڑی سلسلے میں دو اور بڑی چوٹیاں داماوند اور عالم کوہ مشہور ہیں۔ زرتشتی مذہب کی کتب میں تحریر ہے کہ زرتشت چالیس دن تک البرز کوہ میں قیام کیا تھا۔ واپس ہوتے وقت اس کے ساتھ ’’اوستا‘‘ کے جلد تھے۔ جس کے توسط سے اپنے مذہب کی تبلیغ کی۔(۴۷) یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ برزکوہی پہاڑی سلسلہ ایران کے ’’شمال‘‘ میں واقع ہے اور ’’وڑاکوئی‘‘ یا ’’پرواکہ‘‘ لفظ کے معنی بھی شمالی پہاڑی لوگ کے ہیں۔
جب آریا ؤں نے پہلی بار ایران میں قدم رکھا تو ان سے پہلے وڑاکوئی؍ براہوئی لوگ ’’برزکوہ‘‘ پہاڑ پر رہتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد فارسی زبان ارتقاء پاکر میانہ فارسی کی منزل پر پہنچی تو ان لوگوں نے برزکوہ پہاڑ پر رہنے والے وڑاکوئیوں کو اپنی میانہ فارسی زبان کے لب ولہجہ میں ’’برزکوہی‘‘ کہا۔
قدیم ہند ایرانی؍ اوستائی لفظ’’پرواکہ‘‘ (paravka) کا ہند آریاؤں کے بعد وسطی دور میں پرواتا (Parvata)، پاراوتاس (paravatas) پرنیئسن (parnians) اور پرنوئیز (parnois) کی صورتوں میں بھی تبدیل ہوا نظر آتا ہے جن کے معنی ’’پہاڑی لوگ‘‘ کے ہیں۔ کیونکہ ہند آریائی زبانوں کے وسطی دور میں ’’ک‘‘ آواز کا ’’ت‘‘ میں تبدیلی کے لسانیاتی شواہد ملتے ہیں۔ جیسے کہ ماریوپلاشکے اور وولف گنگو لکھتے ہیں کہ:
قدیم ہند آریائی رکتا (rakta) معنی پڑھنا
وسطی ہند آریائی: رتا (ratta) معنی پڑھنا
گیگر (Geiger) بھی وسطی ہند آریائی زبانوں میں ’’کھ‘‘ اور کتھ‘‘ دوہرے مصمتوں کا ’’تھ‘‘ آواز میں تبدیلی کا اشارہ کرتا ہے۔(۴۸)
مسرا بھی ہند یورپی ’’کس‘‘ (ks) آواز کو سنسکرت میں ’’ٹس‘‘ (تس) آواز میں تبدیلی کا اشارہ کیاہے وہ لکھتا ہے کہ:

“IE ks is sometimes found as ts (finally-t) in Sanskrit. This ‘t’ is perhaps an analogical development from “d” found in the same words before bh e.g. kbh>ghb>dbh or a glide development between IE ks>kts>llr sts>skt ts…………”(49)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’وڑاکہ‘‘ لفظ کا قدیم فارسی یا میانہ فارسی صورت’’ پرواکہ‘‘ ہند آریائی وسطی دور میں ’’پرواتا‘‘ ’’پراتا‘‘ یا ’’پرواتہ‘‘ کی صورتیں اختیار کیں کیونکہ ۵۰۰ ق م سے لے کر پہلی صدی قبل مسیح تک ہمیں پرواکا لفظ کے برعکس پرواتا لفظ تحریری صورتوں میں ملتا ہے اور کئی شہروں‘ قبائل اور انسانی گروہوں کے نام بھی ’’پرواتا‘‘ کے نام سے ملتے ہیں۔
پنجاب کا موجودہ شہر ’’شورکوٹ‘‘ جو آریاؤں سے پہلے اور بعد میں ’’سیوی‘‘ اور ’’سبی‘‘ کے نام سے مشہور تھا وہاں ایک بہت ہی قدیم ٹیلہ ہے۔ چینی زبان کے تاریخی ریکارڈکی کتابوں اور سیاحوں کے سفرناموں میں اس ٹیلہ (جب پہلے اس پر شہر آباد تھا) کے نام کو ’’پوفاتو‘‘ (po-fa-to) یا’’پوفاتولو‘‘ (po-fa-to-lo) تحریر کیا گیا ہے۔ مسٹر جولین (Mr. Julien) نے ان چینی لفظوں کو ’’پرواتا‘‘ (parvata) قرار دیا ہے اور اس کے معنی ’’پہاڑ‘‘ بتائے ہیں جو قدیم ہند ایرانی؍ اوستائی لفظ ’’پرواکہ‘‘ کا تبدیل شدہ صورت ہے۔ اس کے بارے میں سر الیگزنڈر کننگھام لکھتا ہے کہ:

“I am unable to offer any explanation of the name of po-fa-to or po-fa-to-lo which M. Julien has altered to po-lo-fa-to, for the purpose of making it agree with a known Sanskrit word, parvata, or “mountain”………”(50)

روس کے نامور محقق اور ماہر بشریات یوری گنکوفسکی مندرجہ بالا پرواتا لفظ کو پاراتا اور پارادا کے روپ میں پیش کرکے ایک قبیلہ قرار دیا ہے اور ان کو موجودہ براہوئی قوم کے آباؤ اجداد تسلیم کرکے ان کو دراوڑ قرار دیا ہے۔ اس قبیلہ کو موجودہ بلوچستان کے شمال مشرق میں موجود ظاہر کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ:
’’موجودہ پاکستان کی سرزمین پر بعض علیٰحدہ علیٰحدہ خطوں میں ایسے قبل از ہند دراوڑی لوگ آباد تھے جو کسی وجہ سے دوسرے میں جذب نہیں ہوئے۔ ان میں سے ایک خطہ شمال مشرقی بلوچستان کے بیچوں بیچ واقع تھا۔ جہاں پاراتا یا پارادا لوگ رہا کرتے تھے۔ بعض عالموں کا خیال ہے کہ موجودہ بروہی قبیلے کے قدیم جدامجد یہی تھے۔۔۔۔۔۔۔‘‘(۵۱)
یہاں یہ بحث کرنا لازمی معلوم ہوتا ہے کہ واحد بخش بزدار نے گنکوفسکی کے مندرجہ بالا حوالہ میں پاراتا یا پارادا قبیلہ کو میڈیائی یعنی ایرانی النسل قرار دیا ہے اور پاراتا کی اور بھی مختلف ظنی صورتیں پیش کرکے گنکوفسکی کی تحقیق کو تضادی بنانے کی کوشش کی ہے وہ لکھتا ہے کہ:
’’پاراتکینوں کے بارے میں متفقہ رائے یہ ہے کہ یہ لوگ مادی یا میدی نسل سے تعلق رکھتے تھے اور میدوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ خالص آریا تھے۔(۵۲) گنکوفسکی نے براہوئیوں کے جس امکانی جدامجد ’’پاراتا‘‘ کا ذکر کیا ہے یقیناًاس کی مراد اسی پرواتا قبیلہ ہے اور پرواتا قبیلہ کے بارے میں رائے یہ ہے کہ وہ گدروشیا کے باشندے تھے اور یہ ایک ایرانی قبیلہ ہے جو رگ وید کا ہم عصر ہے۔ اصل میں پاراتا‘ پرادا‘ پرواتا‘ پاری ساتی‘ پاردی تائی‘ پارسی رائی اور پارتی یا پارتھی‘ پارسوا‘ یا پارسوانا ایک ہی قبیلہ کی مختلف صوتیاتی صورتیں ہیں جن کا تعلق مید قوم کی مشہور شاخ ’’پاراتکینی‘‘ یا پاری تکینی سے ہے۔(۵۳) پاراتکینی قبیلہ میدوں کا ایک مشہور قبیلہ تھا اور تین ہزار قبل مسیح میں عیلامی اقوام کے ساتھ جنوب مغربی ایران کے دشوار گزار پہاڑوں میں رہتا تھا۔۔۔۔۔۔ پاریاتیکنی (parea-tak-eni) کا لفظ اصل میں دو لفظوں پریا (parea)‘ بریا (barea) اور تگ (tag) یا سگ (sag) کا مرکب ہے یعنی بریا‘ پریا کی نسل۔۔۔۔۔۔ سارگون کے کتبوں میں BaraZum یعنی براہوئی ملک کے ساتھ ساتھ ان کے نسلی تعلق کو واضح کرنے کے لیے انھیں BaraZai اور Parazai لکھا گیا ہے۔ بارازئی سے مراد ’’براہوئی زئی‘‘ ہے یعنی براہوئی لوگ بریاسگ Barea Sag پریاسگ (parea Sag) اور بارازئی (Barazai)تاریخی طور پر براہوئی نسل کا ابتدائی نام ہے جو بعد میں ’’براہوئی‘‘ کی صورت اختیار کر گیا۔۔۔۔۔۔۔‘‘(۵۴)

بزدار کے بعد نصیر دشتی نے تھوڑے رد و بدل کے ساتھ ڈاکٹر جرشی وچ (Dr. Gershevitch) کے حوالے سے براہوئی لفظ کی بنیاد کو پہلے ’’برادازھئی (Bradazhui) پھر باریزئی (Barezui) قرار دیتا ہے۔(۵۵)
برادازھئی سے برادھئی اور باریزئی سے باریزئی یا باروزئی الفاظ بنتے ہیں نہ کہ براہوئی یا بروہی بنتے ہیں کیونکہ برادازھئی لفظ میں دا228زھئی کا ھوئی اور با228رھے228زئی کا برا228ھو228ئی میں تبدیلی کی کوئی مثال نہیں ملتی اور نہ ہی یہ تبدیلی ممکن ہے۔
بزدار صاحب اپنی اسی تحریر میں آگے لکھتا ہے کہ:
’’عام مؤرخین و محققین براہوئی اور بلوچ نسل کے بارے میں نہ صرف واضح طور پر تضادات کا شکار ہیں بلکہ ان کا رویہ بھی انتہائی غیر علمی اور غیر دیانتدارانہ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔‘‘(۵۶)
بزدار صاحب نے کس حوالے سے اور کن علمی شواہد کے مطابق مید قبیلہ کو ایرانی النسل قرار دیا ہے۔ وہ خود اس بارے میں کوئی شواہد پیش نہیں کرسکاہے جبکہ اس کے برعکس تمام مؤرخین اور ماہرین بشریات مید قبیلہ کو مچھیرے یا مہانے قرار دے کر ان کو قدیم دراوڑی النسل قرار دیا ہے۔ جیسے کہ ایک نامور محقق میدوں کے بارے میں کہتا ہے کہ:
’’مچھلی مارنے کا قدیم دھندہ میدوں کے ہاتھوں میں تھا۔ یہ قدیم قوم شمار ہوتے ہیں۔ آریاؤں سے قبل تقریباً ایک ہزار سال پہلے یہ کافی طاقتور تھے۔۔۔۔۔۔۔‘‘(۵۷)
لانگ ورتھ ڈیمز میدوں کو غیر بلوچ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ بلوچ میدوں کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں یعنی بلوچ میدوں کو بلوچ تصور نہیں کرتے۔ وہ لکھتا ہے کہ:
’’مید ساحل مکران اور سندھ کا ایک غیر بلوچ نیم وحشی ماہی گیر قبیلہ ہے یہ بلوچوں کے نفوذ سے بہت پہلے یہاں آباد تھا۔ بلوچوں نے انھیں تضحیک کے طور پر یہ نام دیا ہے۔ دریائے سندھ کے قرب و جوار میں اسی نام سے دریائے سندھ کے ماہی گیروں کو پکارا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ انھیں ماچھی بھی کہا جاتا ہے۔ ایک قدیم لوک گیت میں مدمقابل کی تضحیک کے لیے اسے یہ کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔ ’’کہاں مید اور ماچھی اور کہاں میر حمزہ۔‘‘(۵۸)
بزدار‘ گنکوفسکی کے پاراتا یا پارادا الفاظ کو پارسی وائی پاری ساتی‘ پاردی تائی‘ پارتی یا پارتھی‘ پارسوایا پارسوانا لفظوں کے ساتھ اشتراک دکھا کر ان کو گنکوفسکی کے بتائے ہوئے الفاظ کی تبدیل شدہ صورتیں قرار دیا ہے۔ اصل میں زیر بحث ’’پاراتا‘‘ اور ’’پارادا‘‘ کے الفاظ ہیں۔ جن میں ’’د‘‘کا’’ت‘‘ یا’’ت ‘‘کا ’’د‘‘ آوازوں میں تبدیلی سمجھ میں آتی ہے مگر بزدار پارسی رائی‘ پاری سائی‘ پاردی تائی‘ پارتی یا پارتھی‘ پارسوا یا پارسوانا لفظوں کو کہاں سے ڈھونڈ کر اور کس علمی طریقہ سے پاراتا یا پارادا لفظوں کی بگڑی ہوئی صورت قرار دیا ہے یعنی پاراتا لفظ کس طرح پارسی رائی‘ پاری ساتی‘ پاردی تائی‘ پارتھی لفظوں کا روپ کب اور کس لسانی بنیادوں پر یہ صورتیں اختیار کیں؟ شاید اس بات کا بزدار کو بھی علم نہیں ۔
بزدارایک اور نئے لفظ پاریاتکینی پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔ پاریاتکینی (parea-tak-eni) لفظ کو دو‘ ایک پریا یا بریا اور دوسرے سگ یا تگ کا مرکب بتا کر اسے بریا سگ یا پریاسگ کا لفظی روپ دیا ہے۔ اگر بنیاد پاریاتکینی ہے جس طرح رومن میں parea-tak-eni لکھا ہے۔ جس میں یہ لفظ تین لفظوں پریا+ تک +اینی کا مرکب ہے مگر انھوں نے پاراتکینی کو دو لفظوں باریا یا پاریا اور تگ یا سگ کا مرکب بتایا ہے۔ جس سے بریاسگ یا پریاسگ لفظ سامنے آتے ہیں نہ کہ پاراتکینی۔ اگر پاراتکینی‘ بریاسگ کا روپ دھار لیتا ہے تو وہ کیسے اور کیوں یہ روپ اختیار کرتا ہے۔اس بارے میں بزدارخاموش ہے۔
بزدار نے براہوئی لفظ کی بنیاد کو ’’برا‘‘(bara) یا ’’پرا‘‘ (Para)قرار دیا ہے اور معنی دیا ہے کہ بارازئی سے مراد براہوئی زئی یعنی براہوئی لوگ ہے۔لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ بارازئی لفظ براہوئی لفظ میں کیسے تبدیل ہوا۔ جبکہ اصل میں براہوئی لفظ کی بنیاد ’’برا۔ہو۔ئی‘‘ (Bra-hu-i) ہے۔ اگر اس کی بنیاد ’’بارازئی‘‘ ہے تو ’’با۔را۔زئی‘‘ لفظ کا پہلا لفظ ’’با‘‘ کیسے ’’برا‘‘ میں دوسرا ’’را‘‘ کیسے ’’ھو‘‘ میں اور تیسرا ’’زئی‘‘ کیسے ’’ای‘‘ میں تبدیل ہوا؟
موصوف کا کام براہوئیوں کو ہند یورپی قرار دینا ہے۔ اس لیے انھوں نے سارے معتبر ماہرین لسانیات و بشریات کو انتہائی کم علم اور غیر دیانتدار قرار دے کر اپنی تحقیق کو درست اور صحیح قرار دینے کا دعویٰ کرتا ہے۔
دراصل ’’پرواکہ‘‘ (parvaka) لفظ پروٹو دراوڑی (Proto-Dravidian) لفظ ’’وڑاکوئی‘‘ (vaRa-ko-i) کا قدیم ہند ایرانی؍ اوستائی روپ ہے۔ ’’وڑاکوئی‘‘ دو لفظوں اور ایک لاحقہ یعنی ’’وڑا228کو228ای‘‘ کا مرتب ہے۔ پروٹو دراوڑی لفظ ’’وڑا‘‘ (vaRa) آج بھی جدید دراوڑی زبانوں میں وٹا (vata)‘ بڈا (bada) ودا (vada) کی صورتوں میں شمالی (northern) کے معنی میں مستعمل ہے۔ جیسا کہ

Tamil:

vata: northern

Telugu:

vatai: north wind

Malayalam:

vata: north

Kannada:

bada: The north

Kodagu:

badaki: north

Tulu:

bada: the north, northern

Telugu:

vadaku: north (59)

وڑاکوئی کا دوسرا لفظ ’’کو‘‘ (ko) ہے جس کے معنی پہاڑ ہے۔ یہ قدیم ایرانی لفظ نہیں۔ کیونکہ ہند یورپی زبانوں میں پہاڑ کے لیے مختلف بنیاد کے لفظ مستعمل ہیں۔ مثلاً:

mons, mont, men

قدیم ہند یورپی

گ اِر، گری

اوستا

پربت‘ پاروتی

سنسکرت

وونو (vouno)

یونانی

برگ (berg)

جرمنی

mountain

انگریزی

بیومونٹ (Beaumont)

جدید فرانسیسی

montanus

لاطینی

کوہ

جدید فارسی

پہاڑ

اردو

پہاڑ

ہندی

فارسی کے علاوہ کسی بھی ہند یورپی زبان میں ’’کوہ‘‘ مستعمل نہیں ہے اور فارسی نے یہ براہوئی سے مستعار لیا ہے۔ کیونکہ براہوئی کے ساتھ تقریباً سارے دراوڑی زبانوں میں یہ لفط مستعمل ہے۔ جیسے و احد بخش بزدار نے غلط سمجھا ہے۔ (۶۰) بلکہ یہ پروٹو دراوڑی لفظ ہے اور آج بھی سارے دراوڑی زبانوں میں ’’پہاڑ‘‘ کے معنی میں مستعمل ہے جیسے کہ:

Tamil:

ko: mountain

Telugu:

Kodu: man of a certain hill tribe

Kui:

kui: the kond tribe or language(61)

بہت سے دراوڑ قبائل اور زبانوں کے نام ’’کو‘‘ یعنی ’’پہاڑ‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ جیسا کہ کئی (kui-kui)‘ کُوی (kuving, kuvi)‘ کونڈا (Kubi)‘ گونڈی (koitoRk- Koya)‘ کراوا (Kurava- karava)‘ وغیرہ شامل ہیں۔ ان سب قبائل اور زبانوں کے ناموں کے معنی پہاڑ یاپہاڑی لوگ کے ہیں۔(۶۲)
دراوڑ قبائل اور زبانوں کے ناموں کی طرح براہوئی قوم کے کئی قبائل اور طائفوں کے نام بھی ’’کو‘‘ لفظ سے موجود ہیں۔ جیسے کہ ’’کوہ بدوزئی (بنگلزئی قبیلہ کے جنگی زئی طائفہ میں ایک ذات کا نام ہے) ’’کوہ بادوزئی‘‘ (مینگل قبیلہ میں ایک ذات ہے) ’’کوہی زئی‘‘ (زہری قبیلہ میں ذات ہے) ’’کوہی زئی‘‘ (قمبراڑی قبیلہ میں ایک ذات ہے) ’’کوہی زئی‘‘ (ہارونی قبیلہ کے خانزئی طائفہ میں ایک ذات ہے) ‘کوہی بالی (یہ بھی ہارونی قبیلہ میں ایک ذات ہے) ‘اس کے علاوہ اور بھی سینکڑوں براہوئی قوم کے قبائل کے نام ’’کوہ‘‘ سے شروع ہوتے ہیں۔

وڑاکوئی لفظ کا لاحقہ’’ای‘‘ (i) دراوڑی لاحقہ نسبتی ہے۔جیسے کہ عین الحق فرید کوٹی ’’ای‘‘ لاحقہ نسبتی کے بارے میں تحریر کرتا ہے کہ:
’’سنسکرت (یعنی ہند آریائی زبانوں) کو گنگا اور سندھ کی وادی میں قدم رکھے ہوئے جب کچھ عرصہ گزر جاتا ہے تو اس کے گرامری ڈھانچے میں کچھ تبدیلیاں رونما ہونے لگتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنسکرت میں عام طور پر صیغہ مونث کے لیے لفظ کے آخر میں ’’الف‘‘ کا لاحقہ استعمال ہوتا ہے۔ جیسے ایسرا (پانی میں چلنے والی) سروپ نکھا (خوبصورت ناک والی)۔ اس قاعدہ کے مطابق قدیم ہندو عورتوں کے نام سرما رمبھا‘ یشودھا‘ رادھا اور سیتا وغیرہ رکھے جاتے تھے۔ لیکن ایک وقت آتا ہے کہ سنسکرت زبان کے بولنے والے مؤنث کے لیے ’’الف‘‘ کے ساتھ یائے معروف (ی) کا استعمال بھی شروع کردیتے ہیں۔ جیسا کہ سرسوتی‘ گندھاری اکنتی اور دروپدی وغیرہ اور اسی طرح اندر سے اندرانی‘ اوریم سے یمی وغیرہ۔ اگرچہ قدیم سنسکرت میں لفظ کے بعد یائے معروف کا لاحقہ مذکر کی علامت تسلیم کیا جاتا تھا۔ اس کی وجہ سے واضح طور پر یہی ہوسکتاہے کہ اکثر دوسری باتوں کی طرح مونث بنانے کا یہ طریقہ بھی آریاؤں نے وادی سندھ میں پہلے سے آباد قوموں سے مستعار لیا۔۔۔۔۔۔۔‘‘(۶۳)
جس طرح پاکستان سے پاکستانی‘ مَش سے مَشی‘ سندھ سے سندھی‘ وغیرہ الفاظ میں یائے معروف (ی) کا لاحقہ لگاکر نسبت ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس طرح تین مختلف پروٹو دراوڑی الفاظ (ایک لاحقہ) مل کر ایک پروٹو دراوڑی لفظ ’’وڑا228کو228ای‘‘ (وڑاکوئی) بنا۔
یم ایس آندرونوف براہوئی لفظ کی بنیادی صورت ’’وڑاکوئی‘‘ کے متعلق تحریر کرتا ہے کہ:

“The ethnonym Bra’ui is of ancient and purely Dravidian origin and in this respect does not differ from the self-appellations of other Dravidian peoples and tribes, with many of which it is connected etymologically………… The meaning of the word shows that in this case -r- apparently comes from the Proto-Dravidian -R-, ie. Braui< “VaRa+Ko+i”, the entire word meaning northern mountaineer’s’ or people of the northern mountains,…………”(64)

آندرونوف‘ براہوئی لفظ کی بنیادی صورت کو ’’وڑاکوئی‘‘ قرار دیتا ہے۔ ڈاکٹر غلام علی الانا اور ڈاکٹر ہریماتھ بھی آندرونوف سے متفق نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر الانا‘ ڈاکٹر ہریماتھ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ

“Dr. Hirimath giving the meaning of the word Brahui, first shows derivation of the word and says:
Brahui > Bra + hu + i
Bra < bada < vada, means ‘north’
hu < Ku < ko means hill i-one belongs to Brahui means one who belongs to the northern hill. This name broadly cannot the sense of people of the hilly track and their languages”. This name may have been derived from Proto-Dravidian stem………..”(65)

ایک اور جگہ ایم ایس آندرونوف اور ہریماتھ کے نظریہ کی تائید ان الفاظ میں ہوتی ہے:

“brahui, Brahui <vata…ko-i’ norther mountaineers’ people of the northern mountains…………..”(66)

ڈاکٹر الانا اور ڈاکٹر ہریماتھ دونوں ’’براہوئی‘‘ لفظ کے اصل صورت کو ’’وداکوئی‘ ‘ (Vadakoi) قرار دیتے ہیں اور اس لفظ کو قدیم دراوڑی تسلیم کرتے ہیں۔ ہریماتھ نے براہوئی لفظ کے شروعاتی لفظ کو ’’ودا‘‘ (vada) تحریر کیا ہے جو دراوڑی زبانوں میں ’’شمال‘‘ کے معنی میں مروج ہے۔ اس طرح کے نام سے کئی دراوڑی زبانیں موجود ہیں۔ جیسے کوداگو (Kodagu)، بڈاگارس (Badagars) ،بڈاگا (Badaga) ہیں۔ جن کے معنی شمالی پہاڑی لوگ کے ہیں۔ ایم ایس آندرونوف نے براہوئی لفظ کے شروعاتی لفظ کو ’’وڑا‘‘ (vaRa) لکھا ہے جو میرے خیال میں قدیم اور صحیح ہے کیونکہ اس میں ’’و‘‘ اور ’’ڑ‘‘ کی آوازیں شامل ہیں جو دونوں قدیم دراوڑی الاصل ہیں۔(۶۷)
واحد بخش بزدار‘ ڈاکٹر ہریماتھ کی مندرجہ بالا تحریر سے سخت نالاں ہیں جس میں ڈاکٹر نے براہوئی لفظ کی بنیاد کو ’’وداکوئی‘‘ قرار دیا ہے۔ بزدار صاحب‘ ہریماتھ کی اس تحقیق کے بارے میں اپنے عجیب و غریب خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:
’’مجھے ’’براہوئی‘‘ لفظ کے بارے میں ڈاکٹر ہیئرمیتھ (Dr. Heirmath) کے اس تجزیہ پر نہ صرف حیرت ہوئی ہے بلکہ انتہائی مایوسی بھی کہ ڈاکٹر ہیئرمیتھ جیسا عالم بھی ’’براہوئی‘‘ کی تشریح کے بارے میں انتہائی حد تک سستی اور سطحی رائے کا بھی اظہار کرسکتا ہے۔ ان کے بقول براہوئی لفظ کا پہلا حصہ ’’برا‘‘ شروع میں ’’ودا‘‘ تھا جو بعد میں ’’بادا‘‘ بنا اور پھر ’’بادا‘‘ سے ’’برا‘‘ بنا۔ اس کے معنی ہیں شمال اور ’’ہو‘‘ جو شروع میں ’’کو‘‘ یا ’’کوہ‘‘ تھا اس کے معنی ہیں پہاڑ۔ براہوئی لفظ کا آخری حصہ ’’ئی‘ یائے نسبتی ہے۔ جس کا مطلب ہوا شمالی پہاڑ کے رہنے والے لوگ۔
ممکن ہے کہ یہ نام پروٹو ڈراوئیڈن تنا Proto-Dravidian Stem) )سے مشتق ہو یعنی وادی سندھ کی زبان۔ اول تو یہ تشریح سرے سے غیر علمی اور غلط ہے۔ بالفرض یہ اس طرح ہو۔ تب بھی ’’کوہ‘‘ ایک ایرانی لفظ ہے‘ جو ’’پہاڑ‘‘ کے معنی دیتا ہے اور ’’ای‘‘ یائے نسبتی ہے جو دراوڑی یا پروٹو دراوڑی کی بجائے ایرانی زبانوں میں مستعمل ہے۔۔۔۔۔۔۔‘‘(۶۸)
واحد بخش بزدارنے اپنی مندرجہ بالا تحریر کے شروع میں ڈاکٹر ہریماتھ کو سست اور سطحی رائے دینے والا محقق کہا ہے۔ وہ صرف اس لیے کہ ڈاکٹر صاحب نے براہوئی لفظ کی بنیاد کو پروٹو دراوڑی قرار دیا ہے۔ اگر اس کے برعکس براہوئی لفظ کی بنیاد کو جوزف البائن کی طرح ہند یورپی قرار دیتا تو بزدار بہت خوش ہوتے اور پھر اس کو بطور سند پیش کرتا لیکن ڈاکٹر ہریماتھ، بلوچ پرست نہیں کیونکہ بلوچ پرست مؤرخین کا یہی نکتہ تحقیق رہا ہے کہ براہوئیوں کو نسلی اور لسانی طور پرجان بوجھ کر ہند یورپی قرار دے کر بلوچوں کے ساتھ ملائیں۔
لیکن بزدار اپنی تحریر میں مبہم طور پر ڈاکٹر ہریماتھ کی تحقیق کو تسلیم بھی کرتا ہے کہ ’’ممکن ہے کہ یہ نام پروٹو ڈراوئیڈن سے مشتق ہو‘‘پھر آگے لکھتا ہے کہ ’’یہ تشریح سرے سے غیر علمی اور غلط ہے‘‘ اس پرخود تذبذب اور پریشانی کا شکار بنا ہے ۔ وہ ایک طرف تسلیم کرتا ہے تو دوسری طرف انکارکرتے ہوئے اپنے رٹے پٹے الفاظ پھر دُہراتا ہے :
’’کوہ‘‘ ایک ایرانی لفظ ہے‘ جو پہاڑ کے معنی دیتا ہے اور ’’ای‘‘ یائے نسبتی ہے جو دراوڑی یا پروٹو دراوڑی کی بجائے ایرانی زبانوں میں مستعمل ہے۔‘‘
دراصل واحد بخش بزدار نے جو ’’کوہ‘‘ اور ’’ای‘‘ یائے نسبتی کے متعلق اپنی رائے دی ہے کہ وہ غیر حقیقی ہے۔
’’کوہ‘‘ لفظ ہند یورپی زبان کا لفظ ہی نہیں ہے اور حالت اضافی جمع یا نسبت کے لیے بالترتیب اوم‘ ام اور ’’کم‘‘ کے لاحقے مستعمل تھے۔(۶۹) اس لیے ’’کوہ‘‘ یا ’’کو‘‘ لفظ اور’’ای‘‘ یائے نسبتی لاحقہ دراوڑی الاصل ہیں اور قدیم ہند یورپی( قدیم ایرانی اور قدیم ہند آریائی) میں مفقود ہیں۔ اس پر ہم نے اوپرتفصیل سے بحث کی ہے۔ پھر بھی حسب ضرورت کچھ لسانی شواہد پیش کیے جاتے ہیں۔ بہت سے دراوڑی قبائل اور لوگوں کے ناموں میں نسبتی لاحقے ’’ای‘ وی‘ کی‘ یی‘ نڑی‘‘ (آنڑی) اور آنی اب بھی مستعمل ہیں۔ جیسے کہ:

دراوڑی نام

لاحقے

AyyaKe

ke(کی)

Accakke

ke(کی)

Co-makke

ke(کی)

Ponakke

ke(کی)

Amme

e (ای)

Accamme

e (ای)

Ayyamme

e (ای)

Pannayye

ye (یی)

Comayye

ye (یی)

Ponnappe

e (ای)

Ponnanne

anne (آنڑی)

Muttanne

anne (آنڑی)

Odevoni

oni (آنی)

Ponnavve

avve (آوی) (۷۰)

دراوڑی زبانوں کے یہی نسبتی لاحقے آج بھی براہوئی قبائل ‘شہروں اور لوگوں کے ناموں میں باقاعدہ استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً
آنڑی لاحقہ: رئیسانڑی‘ قلندرانڑی‘ گرگنانڑی‘ پرکانڑی‘ سمالانڑی وغیرہ۔
ای لاحقہ: خضداری‘ مستونگی‘ جھٹ پٹی‘ کانکی‘ قلاتی‘شکارپوری۔
وی لاحقہ: سورابوی‘نوشکوی۔
کی لاحقہ: لہڑکی‘ براہوئیکی‘ یا بروہکی‘ ابابکی۔
براہوئی لفظ کو غیر براہوئی لکھاری ’’بروہی‘‘ لفظ میں صفت کے طور پر ’’کی‘‘ کا نسبتی لاحقہ لگاکر ’’بروہکی‘‘ بھی لکھتے اور بولتے ہیں۔ جوزف البائن اور آسکوپارپولا (جنھوں نے البائن کی تحقیق پر اعتبار کیا ہے) نے ’’کی‘‘ نسبتی لاحقہ کو جٹکی (سرائیکی) اور ’’ای‘‘ یائے نسبتی کو ’’بلوچی‘‘ قرار دیا ہے جیسے کہ آسکوپارپولا‘ جوزف البائن کے حوالے سے لکھتا ہے کہ:

“The word “Brahui” (older Brahoi) is almost certainly a modern term, taken from the Siraiki (Jatki) Braho…… to which the Baloch -i adj:, suffix has been added as is usual to form an ethnicon………..”(71)

یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ براہوئیکی یا بروہکی میں ’’کی‘‘ کا نسبتی اور ’’ای‘‘ کے لاحقے دونوں ہند یورپی نہیں بلکہ دراوڑی الاصل ہیں۔
قدیم ایرانی روپ پرواکہ‘ دو لفظوں کا مرکب ہے۔ ایک ’’پروا‘‘ جو ’’وڑا‘‘ کی صوتی تقلبی صورت ہے جسے ڈاکٹر ہریماتھ نے ’’ودا‘‘ اور ’’برا‘‘ تحریر کیا ہے۔ جس کے معنی ’’شمال‘‘ کے ہیں اور دوسرا لفظ ’’کہ‘‘ (ka) ہے جو وڑاکوئی لفظ کے ’’کوئی‘‘ (koi) کے برابر ہے جس کے معنی ’’پہاڑ یا پہاڑوں پر بسنے والے لوگ‘‘ کے ہیں۔ وڑاکوئی یا پرواکہ لفظوں سے سمت‘ مقام اور نسبت کاپتہ چلتا ہے جبکہ سنسکرت زبان میں ایک لفظ پہاڑ کے لیے ’’پروت‘‘ (parvat) یا ’’پربت‘‘ (parbat) مستعمل ہے۔ (۷۲) جسے وڑاکوئی کے قدیم ایرانی روپ پرواکہ کا نعم البدل نہیں سمجھنا چاہیئے کیونکہ پروت لفظ کے معنی صرف ’’پہاڑ‘‘ کے ہیں۔ اس میں سمت اور نسبت کے معنی نا پید ہیں اور ’’پرواکہ‘‘ لفظ میں ’’کہ‘‘ کے معنی پہاڑ لفظ پہلے ہی موجود ہے جو پروت کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے۔ پروت سنسکرت زبان کا لفظ ہے جبکہ ’’کہ‘‘ یا ’’کو‘‘ دراوڑی الاصل لفظ ہے۔ اس لیے پروت لفظ کو پرواکہ (Parvaka) کا نعم البدل سمجھنا ‘اس سے ملانا یااشتراک ثابت کرنا صحیح نہیں ہے۔
آریاؤں نے جب ہندو پاک میں قدم رکھا توان سے پہلے دراوڑ اور منڈا موجود تھے۔ جو تہذیبی لحاظ سے عروج پر تھے۔(۷۳) نووارد آریاؤں اور مقامی دراوڑوں کے مابین سیاسی‘ سماجی‘ تہذیبی‘ مذہبی‘ لسانی اورنسلی تصادم ہوا۔اس کے نتیجے میں آریاؤں نے مقامی لوگوں پر بھیانک اور غیر اخلاقی نام رکھے۔ آریاؤں سے مختلف خطوں کے دراوڑوں نے لڑائیاں لڑیں جن میں وڑاکوئی قبائل بھی تھے۔ جنھیں اوستائی یا قدیم فارسی زبان بولنے والوں نے ’’پرواکہ‘‘ نام دیا۔وڑاکوئی یا پرواکہ نسل کے لوگ گدروشیا (موجودہ مکران اور جہلاوان) میں سکونت پذیر تھے۔(۷۴) اور ان کے کچھ قبیلے جمنا کے کنارے بھی رہتے تھے۔(۷۵) کچھ آموں دریا کے کنارے بھی آباد تھے جیسے کہ راگوزین تحریر کرتا ہے :

“The wealthy robber tribe of the Panis with parnians, whom the Greek biographers strabo describes as nomads, a sort of Eranian Bedouins, having their abodes along the oxus (modern Amun-Darya), and that of the paravatas or “mountaineers”, a people whom the vedic Aryas fought, with the Parouetai dwelling in the mountains,”(76)

پرواکہ یعنی وڑاکوئی (براہوئی) کے کچھ قبیلے ترکمانستان میں بھی بودباش رکھتے تھے۔ ان کے بارے میں وجے ٹھاکر لکھتا ہے:

“It claimed that the “Daha” and “Parnois” (in Greek transcription) found in late centuries in eastern Turkmenistan were descendants of the residue of these Tribes that over left behind…………..”(77)

آسکو پارپولا ، پرواکہ (وڑاکوئی یعنی براہوئی) لوگوں کا آخوس موجود ہ تیجند میں بھی موجودگی کا اظہار کرتا ہے :

“That people called parnoi was one of the Da(h)a tribes and that they had previously lived along the Okhos river (modern Tejend in Morgiana).”(78)

اس سے ظاہر ہوتاہے کہ پرواکہ (یعنی وڑاکوئی، براہوئی) آریاؤں کے دور میں ایران‘ ترکمانستان‘ ہندوستان‘ افغانستان اور موجودہ پاکستان کے مختلف خطوں میںآباد تھے۔ جنھیں آریاؤں نے پرواکہ کہا اور یہی لفظ میانہ ہند آریائی زبانوں کے دور میں ’’پرنے انس‘‘ (Parnians)، پاراوتاس (Paravatas)، ’’پرنوئس‘‘ (Parnois)، ’’پرنوئی‘‘ (Parnoi)، اور ’’پرواتا‘‘ (Parvata) کی صورتوں میں مستعمل ہوگیا اور ان سب لفظوں کے معنی پہاڑی لوگ کے ہیں۔
گستاو سلومن آپرٹ‘ پاراتاس ‘پراوا کو دراوڑ اور براہوئی سے جوڑتا ہے وہ لکھتا ہے:

“Under these circumstances I regard the Bra is Brahui as a contraction of Bara, and obtain thus in Barahui a name whose resemblance to that of the ancient Barrahai the modern Bhars, as well as to that of the paratas and paravar, and their kindered the Maratha paravari and Dravidian parheyas of palaman is striking.(79)

جب ایران کے بادشاہ داریوش ابن ہستاپس (۱۹۔۵۱۸ ق م؍ ۴۸۶ ق م) حاکم بنا تو اس نے اپنی سلطنت کو بیس ستراپیوں (Satrapies) (صوبوں) میں تقسیم کیا۔ جس میں دسواں صوبہ آگباتانا اور میڈیا کے دیگر حصے بشمول پریکان (Parikon) اور تھوکوری بانتیس پر مشتمل تھا یہ سارے علاقے حاکم ایران کو چار سو پچاس ٹیلنٹ دیتے تھے۔(۸۰)
جارج راولسن نے ہیروڈٹس کے سفرنامہ کا انگریزی ترجمہ میں پارا کانی‘ پارے بتائی‘ پارے لتی اور پارے تکینی لفظوں کو پاریکانین کہہ کر براہوئی کہتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ:

“That in the term pari-canii we have an equivalent of A-pary-tae, pary-etae, para-taceni & ce, i.e. a term of Arian origin, merely signifying “mountaineer”, Perhaps, than the paricanians are the Arains as distinguished from the cushite inhabitants of Balochistan, standing to these last as the Balochees now stand to the Brahoos. Being the stronger people they would hold to the mountains of the interior, where cultivation is possible and a prings of water abound learning to the weaker Cushites the parched coast and the many arid plains. A somewhat similar distribution of the Brahoos is even now found………..”(81)

قدیم فارسی زبان یعنی میانہ فارسی کے اثر کی وجہ سے وڑاکوئی لفظ کا اوستائی روپ پرواکہ‘ پریکن (Parikan) کی صورت اختیار کی کیونکہ فارسی زبان میں ’’ان‘‘ کا لاحقہ بطور جمع استعمال ہوتا ہے جو پرواکہ میں بطور لاحقہ لگ کرپریکن (پاریکان) (Parikan) بن گیا۔
سکندر نے ۳۲۵ ق م میں ہندوستان پر حملہ کیا اور واپسی پر بلوچستان (مکران)کے راستے اس پر قبضہ کیا۔اس حملے کے دوران موجودہ بلوچستان کے جغرافیائی حدود میں ’’ براہوئی‘‘یعنی وڑاکوئی بودوباش رکھتے تھے اور اپنی زبان وڑاکوئی(یعنی براہوئی)بولتے تھے۔اس وقت یہ زبان عام لوگوں کے روزمرہ کی زبان (SpoKen language) تھی۔سکندر نے جب لس بیلہ کے قریب اور یتائی لوگوں پر حملہ کیاتو انھوں نے سکندر کی طاقت کے سامنے بے بس ہوکر ان کی طاقت تسلیم کی ۔ سکندر نے اس علاقے میں ائپولوفینس کو اپنا گورنر مقرر کیااور لیوناٹس کو فوج کا سربراہ مقررکر کے حکومت کرنے کاپروانہ عطا کیا۔ سکندر کی فوج نے ضرورت کے تحت ایک نئے گاؤں’’ اُورا‘‘ (اُرا۔ura)(۸۲) کی بنیاد رکھی۔اورا یا اُرا‘براہوئی زبان میں گھر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہی لفظ دیگردراوڑی زبانوں میں بھی مستعمل ہے ۔ جیسے کہ:

یعنی گاؤں‘شہر

Ur

تامل

یعنی گاؤں‘شہر

Ur

ملیالم

گاؤں

Ur

کوٹا

تامل اور بڈاگاقبائل کے گاؤں

Ur

ٹوڈا

گاؤں شہر

Ter

کناڈا

گاؤں شہر

Uru

نیلگو

گاؤں شہر

Uru

تُلو

گاؤں شہر

Ur

نائکی

(۸۳)

Ura

براہوئی

لیوناٹس نے جس’’اُورا‘‘(اُرا یااُرُ)نامی گاؤں کی بنیاد رکھی۔وہ براہوئی (وڑاکوئی)قوم کی اکثریت کو دیکھ کر اور اُنھیں خوش رکھنے کے لیے اُن کی زبان سے گاؤں کا نام ’’اُورا‘‘رکھا ۔
اوریتائی ‘وڑاکوئی(براہوئی)قوم کا ایک قبیلہ تھا اور وہ وڑاکوئی (براہوئی)زبان بولتے تھے لیکن میجر ماکلر اور مکران گزیٹیر میں اوریتائی کو ہوت قرار دیا گیاہے۔(۸۴) میرگل خان نصیر بھی ان حوالوں کی مدد سے اوریتائیوں کو ہوت قرار دیا ہے(۸۵) لیکن ہولڈچ ہوتوں کو یونانی دور کے ’’اُخوئی‘‘ (Uxoi) قرار دیا ہے۔(۸۶) محمد سعید دہوار‘ ہوتوں کو جاٹ اور ستھین بتاتا ہے۔(۸۷) ٹارن‘ اوریتائیوں کو ایرانی النسل تصور کرتا ہے مگر ایگرمونٹ ٹارن کے ساتھ مندرجہ بالا سارے مفروضوں کو رد کرتے ہوئے اوریتائیوں کو براہوئی قرار دیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ:

“Iran concludes that the Oritans were Iranians. Various classic authors state that Iranian tribes used to practice similar customs………. On the other hand recent excavation in the Nal area have shown that the prehistoric Nal tribes practiced fractional burial, and these Nal tribes men were possibly Dravidian and certainly no Iranians……….. For the rest, long before the discovery of the remains of Harappa and Mohen-jo-Daro supposed that the Oritans belong to the same stock as the present Brahui tribes…………”(89)

ایگرمونٹ آگے لکھتا ہے کہ:

“Brahui is spoken in the mountainous tract of Jhalawan around Nal, and in Sarawan, the regions between Quetta and Kalat. It is a Dravidian tongue…………
The present by vast distance from the Dravidian speaking inhabitants of south India has always cought and held of attention of scholar. Colonel Holdich called Rambicia, the capital of the Oritae in the LasBela state the ancient Dravidian capital…………….The I am prepared to believe that in the third and second millenia B.C. Some kind of ancient Dravidian was spoke in Baluchistan.”(90)

جے آر فورلانگ‘ ایگرمونٹ کی طرح اوریتاؤں کو براہوئی قرار دیتا ہے وہ رقمطراز ہے کہ:

“The Brahui or Vrahui seem to be descended from the Oritae known to the Greek is the time of Alexander the Great (4th century B.C)…………”(91)

بیلیو‘ اوریتائی اور پریکنوئی الفاظ کو ایک ہی بنیادسے قرار دیتا ہے۔ وہ تحریر کرتا ہے کہ:

“The name Orittai is probably a Greek word (“Mountaineer”) and corresponds to the native name Pakistani used by HERODOTUS, both are represented by the modern colloquial name Brahui…………..”(92)

ڈاکٹر احمد حسن دانی بھی اور یتائیوں کو براہوئی (وڑاکوئی) قرار دیتا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ:۔

“The tribes of oritans reside in the Hab river valley upto Hingol river, whose language is said to be different’and hence identified with Brahuis…”(93)

یونانیوں کے دور میں یونانی زبان کا اثر یہاں کی زبانوں پرپڑا۔جس کی وجہ سے فارسی لفظ پریکن؍پاریکان(parikan)ابتداء میں پرتیکنوس(Pardiconos) کا روپ دھار لیا۔میکڈانل نے اپنی کتاب میں سکندر دور کے سندھ اور بلوچستان کے جونام گنوائے ہیں‘اُن میں سے ایک ’’پرتیکنوس‘‘بھی ہے۔(۹۴) جس کو موجودہ بلوچستان کے جغرافیائی حدود میں بتایا گیا ہے ۔یہی لفظ بعد کے یونانی اثرات کی وجہ سے پریکنوئی (Parikanoi)کی صورت اختیار کی کیونکہ یونانی زبان میں نسبتی کے کئی لاحقے مستعمل تھے جن میں سے ایک ’اوئی(Oi)بھی تھی جو قبیلوں‘شہروں اور علاقوں کے ناموں میں بطور لاحقہ لگ کر شہر کی نسبت ظاہر کرتا تھا۔جیسا کہ:

لفظ

لاحقہ

قبیلوں؍شہروں کے نام

ملوئی

اوئی

مَل

اگرونوموئی

اوئی

اگرونوم

اساکنوئی

اوئی

اساکن

آرکوتوئی

اوئی

آرکوت

گیورگوئی

اوئی

گیورک

بوکولوئی

اوئی

بوکول

پارنوئی

اوئی

پارن

گدروشوئی

اوئی

گدروش

پنوئی

اوئی

پن

استیکنوئی

اوئی

استیکن

گندارؤئی

اوئی

گنداری

نائساؤئی

اوئی

نائساءِ

اسپیؤئی

اوئی

اسپی

جتوئی

اوئی

جت

یونانی سیاحوں اور تذکرہ نگاروں میں سے اول ہیروڈوٹس نے پریکنوئی (Parikanoi) لفظ کی نشاندہی کی ہے اور انھوں نے وادی ہنگول میں ایک دریا کا نام پرکن (Parkan) بتایا ہے اور اس کے کناروں پر آباد براہوئیوں کو پریکنوئی کے نام سے لکھا ہے۔ پریکن دریا‘ وادی ہنگول میں سلسلہ کوہ تلوئی کے شمال میں بہتا تھا۔ ہولڈچ اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے تحریر کرتا ہے کہ:

“The bed of the stream called parkan skirting the north of the Taloi range and leading westward from the Hingol, and we need look no farther for the parikanoi………….”(95)

اس کے بعد ڈیوڈورسسائیکیولس (Diodorus Siculus) (۳۰ء- ۶۰ق م) نے پریکنوئی لفظ کی تبدیل شدہ صورت پرتیکنوس (Particanos) کا ذکر کیا ہے۔(۹۶)
موجود دور میں براہوئی قوم کے قبیلوں اور اس کے علاقوں میں بھی یہ نام مکمل طور پر کچھ صوتی تبدیلیوں کے ساتھ ملتا ہے۔ ضلع خضدار کی تحصیل باغبانہ کے مغرب میں تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ’’پارکوئی مَش‘‘ یعنی پارکوئی پہاڑ موجود ہے۔ وہاں کے براہوئی اس کی نسبت سے ’’پارکوئی‘‘ کہلاتے ہیں۔ براہوئی کے ایک نامور گلوکار محمدمراد پارکوئی(مرحوم)اسی نام کی نسبت سے مشہور ہے۔ اس علاقے میں دوچشمے پاریکو (Pariko) کے نام سے مشہور ہیں۔(۹۷)
زیدی(خضدار)کے شمال جنوب میں تقریباً چار‘پانچ کلومیڑ کے فاصلے پر قدیم دور سے ایک بارانی نالہ ’’باریکو‘‘ موجود ہے۔سی ایف منچن نے لکھا ہے کہ جب بلوچوں نے مغرب سینقل مکانی کی توپاریکو اور نال کے سیاہ پاد اور بزنجوجھلاوان میں آکر آباد ہوئے وہ لکھتا ہے:

“Later on when a movement of the Baloch took place from the westwarb certain sections such as the siahpad of pariko and nal and some of the Bizanjaus’ appear to here settled in the country”(98)

دراصل یہ صحیح نہیں ہے۔بلوچ تو بلوچستان میں دسویں صدی کے بعد آئے۔ان سے پہلے بلوچستان میں براہوئی اور جدگال موجود تھے ۔سیاہ پاد باریکو یا پاریکان پہاڑ اور آس پاس کے علاقوں میں اپنی اراضیات آباد کرتے تھے اور ریوڑچراتے تھے۔جیسے کہ منچن لکھتا ہے۔

“The great part of pariko belong to them and they also wander about in the kharan hill to graze their flocks….”(99)

سیاہ پاد قبیلہ کا سردار خیل پاڑہ حملاڑی ہے۔ اس کا ایک طائفہ ’’کرخی زئی‘‘کہلاتا ہے۔(۱۰۰)جو خضدار کے قریبی علاقہ کرخ کے رہنے والے وڑاکوئی تھے۔اس علاقے کی مناسبت سے’’کرخی زئی‘‘ مشہور ہوئے ۔ حملاڑی سردار خیل طائفہ کا صدر مقام ’’نال‘‘ ہے۔(۱۰۱) نال لفظ دراوڑی الاصل ہے۔جس کے دومعنی’’ چار‘‘(۱۰۲)اور ’’پانی‘‘کے ہیں۔ تیلگو زبان میں بھی نِل(Nillu)کے معنی پانی کے ہیں۔(۱۰۳)
حاصل مطلب سیاہ پاد قبیلہ کاپریکو یا پارکوئی علاقہ میں قدیم دور سے بودوباش رکھنا ‘اس کے ایک طائفہ کا نام’’کرخی زئی‘‘ہونااور صدر مقام کا نام’’نال‘‘سب دراوڑی الاصل اور قدیم وڑاکوئی ہونے پر دال ہے۔ان کو مغربی جانب سے بلوچوں کے ساتھ نقل مکانی کرکے دکھانا صحیح نہیں ہے۔
براہوئی قوم کا ایک اہم طاقتور قبیلہ پرکانی (پرکانڑی) بھی ہے۔ڈینس برے‘ پرکاڑیوں کے بارے میں تحریر کرتا ہے کہ:۔
“The pirrikari descendants of war captives from India ۔۔۔۔۔۔”(104)
مگر یہ نہیں بتایا کہ کون سے جنگی قیدی کب اور کیوں بنے۔نہ ہی اس نے’ پرکانڑی‘‘لفظ کی بنیاد اور معنی بتائے ہیں۔ میر گل خان نصیر نے’’پرکانڑی‘‘لفظ کی بنیاد‘ نام اور قدامتکے متعلق جو لکھا ہے وہ قابل غور ہے۔وہ لکھتا ہے کہ:
’’پرکانی۔۔۔ایک قدیم ترین قبیلہ ہے۔ ایران کی قدیم تاریخ میں ۔۔۔ پرکان کے نام سے اس قبیلے کا بھی ذکر آتا ہے۔۔۔ پرکانی ۔۔۔ براہوئی قبائل میں شمار ہوتا ہے اور ٹھیٹ براہوئی بولتا ہے۔‘‘(۱۰۵)
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’وڑاکوئی‘‘ لفظ کا قدیم اوستائی روپ ’’پرواکہ‘‘ اور میانہ فارسی روپ ’’پریکان‘‘ ہے جو قدیم ایران کی تاریخ میں ’’پرکان‘‘ تحریر ہے جو پریکان لفظ کی تبدیل شدہ صورت ہے یہ سب نام پرواکہ‘ پریکان‘ یا پریکنوئی الفاظ وڑاکوئی لفظ کی تبدیل شدہ صورتیں ہیں۔
جب عربیہاں پہنچے توان علاقوں اور قوموں کے ناموں کو اپنی زبان کے لب ولہجہ اور تلفظ کے مطابق تبدیل کرکے بولنے لگے۔ اسطرح پریکنوئی لفظ کو عربوں نے ’’بروہی‘‘ کے روپ میں بدل ڈالا کیونکہ عربی زبان میں ’’پ‘‘ کی آواز نا پید ہے۔ اس لیے عربی زبان میں پریکنوئی< بریکنوئی< بروکنوئی< بروکوئی< بروخوئی میں تبدیل ہوکر بروہی کا روپ دھار لیا۔
عرب سیاحوں میں استخری؍ اسطخری نے تقریباً ۹۲۵ء کے دوران گنداوہ میں براہوئیوں کی موجودگی کو بتایا ہے اور اس دور میں ان کو ’’البراہا‘‘ لکھا ہے۔ اس سلسلے میں وسیلی ولادیمرو وچ برتھولڈ ، استخری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:

“To Qandabil used to come for the sake of commerce members of the nomadic pagan people al-Badaha; this appellation is clearly to be understood as that of the Brahui (perhaps it should be read al-Baraha)…………..”(106)

عرب سیاح ابن حوقل (۹۵۰ء) نے براہوئیوں کو ’’زم بروہی‘‘ کہہ کر انھیں فارس میں موجود بتایا ہے اور وہاں بسنے والے ا قوام اور قبائل کے بارے میں تحریر کرتا ہے :
’’بہت سی جگہیں ایسی ہیں جنھیں یہ لوگ زَم کہتے ہیں۔ اس لفظ کے معنی نسل یا قبیلہ کے ہوتے ہیں۔ ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ سے آبادی اور اہمیت کے لحاظ سے برتر ہے۔ زم حیلولہ کوزم سنجاں بھی کہتے ہیں۔ دوسرا زم احمد بن لیث‘ زم احمد بن علی حسین کو زم کارما بھی کہتے ہیں‘ اس کے علاوہ زم کرمانیاں، درمانیاں، زم بروحی(بروہی)، زم محمدبن بشر، زم آورغانیاں، صباحیاں، زم عشقیاں، زم شیر کوبر، زم زنگیاں، زم صفاریاں، زم شاہ ماریاں، زم متلسیاں، زم ممالیاں، زم سماکاساں اور زم خلیلالیاں۔ یہ وہ زم ہیں جن کے متعلق ہمیں معلوم ہے۔ اگر کوئی شخص اس سے زیادہ ان کے متعلق جاننا چاہتا ہے‘ یا سب زموں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کا متمنی ہے تو اسے یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ ان زموں کی آبادی پانچ لاکھ خاندانوں کے لگ بھگ ہے اور ان میں سے ہر قبیلہ دو دو ہزار گھڑ سوار جوانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ کسی صورت میں بھی کوئی قبیلہ سو گھڑ سواروں سے کم تعداد نہیں رکھتا، ان کی کثیر تعداد‘ ان کے بے شمار ہتھیار اور جنگی گھوڑے اس قدر ہیں کہ وہ بڑے سے بڑے بادشاہ کا مقابلہ بہ آسانی کرسکتے ہیں۔‘‘(۱۰۷)
اس سے ثابت ہوتاہے کہ پرو ٹو دراوڑی لفظ وڑاکوئی‘ قدیم ایرانی زبان میں پرواکہ’میانہ فارسی کے دور میں پریکان‘یونانیوں کے دور میں پریکنوئی اور عربوں کے دور میں ’’بروہی‘‘ کی صورت اختیار کیا۔
یہاں یہ سوال پیداہے کہ اگر ’’پرو اکہ‘‘،’’پریکان‘‘یا’’پریکنوئی‘‘وغیرہ’’بروہی‘‘لفظ کی بنیادی روپ ہیں توبراہوئی جو خود کو’’ براہوئی‘‘ (بِرا۔ہُو۔ئی۔Bra.hu.i)کہتے ہیں‘ لفظ کی بنیاد کیا ہے؟ کیا’ ’ براہوئی‘‘لفظ بھی’’وڑاکوئی‘‘ کی تبدیل شدہ صورت ہے یا نہیں؟
دراصل وڑاکوئی سے پرواکہ‘پریکان؍ پاریکنا‘پریکنوئی‘ پارواتا‘ پارادااوربروہی لفظ کی صورتیں ہند یورپی اوریونانی یعنی غیربراہوئی اور غیردراوڑی ہیں۔ عربوں نے وڑاکوئی لفظ کے یونانی روپ پریکنوئی کو عربی زبان کے مزاج کے مطابق’’بروہی‘‘ میں تبدیل کردیا۔ جیسے ’’بلوچ‘‘ کو سندھی میں ’’بروچ‘‘، عرب ’’بلوشی‘‘،پشتون/ پٹھان ’’بلوص‘‘ کہتے ہیں جبکہ بلوچ خود کوبلوچ کہتے ہیں یعنی بروچ‘ بلوش اوربلوص الفاظ بلوچ لفظ کے غیر بلوچی روپ ہیں۔ سندھی‘ پنجابی‘ پختون اور پشتون کو پٹھان کہتے ہیں جبکہ براہوئی انھیں افغانستان کی نسبت سے ’’اَوغان‘‘ کہتے ہیں۔جبکہ صوبہ پختونخواہ کے پٹھان خود کو پختون اوربلوچستان کے خود کو پشتون کہتے ہیں۔اسطرح براہوئی اپنے آپ کو ’’بروہی‘‘ نہیں بلکہ’’براہوئی‘‘یا ’’بِراوی‘‘کہتے ہیں۔
وڑاکوئی لفظ ’’براہوئی‘‘میں کیسے تبدیل ہوا؟اس بارے میں روس کے نامور ماہر لسانیات اور ڈریووڈالاجسٹ ایم۔ایس آندرونوف لکھتا ہے:

“In words of Dravidion origin initial consonant clusters appear as a result of the dropping of the vowel which origingally existed between them, the quality of the vowel that was dropped influencing the quality of the vowel in the second syllable (the latter becomes longer)in accordance with these rules: a ..a) a’i۔۔۔i) t’u..u)/e۔۔۔a) e’u۔۔۔a)o. At the same time the Brahui consonant b۔is a reflection of the initial v.Finally, ۔r۔may be either the original sonant۔r۔or a reflection of the proto۔dravidian noise consonants – R – and-rr-or the sonant-Z-. The meaning of the word shows that in this case-r-apparently comes from the proto-Dravidian-R-i.e’ bra’ui< vaRa+koَ+i’ the entire word meaning”northern mountaineers ‘or people of the northern mountains’ “……. (108)

ایم۔ایس آندرونوف نے’’وَڑکُئی‘‘یا’’وڑاکوئی‘‘لفظ میں کچھ تاریخی صوتی تبدیلیاں دکھا کر‘اس کو’’براہوئی‘‘لفظ میں تبدیل ہونابتایا ہے۔اگر ایم۔ایس آندرونوف کے وَڑکئی یا وَڑاکوئی لفظ میں حروف علت (Vowel)کے تبدیلیوں کے برعکس صرف حروف صحیح (Consonants) کی تبدیلیوں پر غور کریں تو آج بھی براہوئی‘ پروٹو دراوڑی آوازوں کو اپنے مزاج کے مطابق تبدیل کرتے ہیں۔مثلاًوَڑکئی یا وڑاکوئی لفظ میں تین اہم آوازوں و‘ ڑاور ک کو باالترتیب ب‘ر اور ہ میں تبدیل کرتے ہیں۔تفصیل ملاحظہ ہو۔

’’و‘‘ کا’’ب‘‘ آواز میں تبدیلی:

براہوئی ہمیشہ پروٹو دراوڑی ’و‘کو’ب‘آواز میں تبدیل کرتے ہیں۔(۱۰۹)مثلاً

براہوئی

معنی

پروٹو دراوڑی

بن (bin)، (to hear)، (110)

(to hear)

وِن/وین (ven.vin)

بُٹ (mound)(but) (111)

(mountain)

وِٹاری/وِٹن(vitari.vitan)

بِر (bir)، (toseparate)، (112)

(that which is’separate)

وَر/ویر(var’ver)

بل، (bil)، (bow)، (113)

ول، (bil, vil)

بَر (bar)، (tocome)، (114)

(to come)

ور (var)

بین (ben)، (to wear, put on)، (115)

(to wear)

وے (vay, vey)

مندرجہ بالاتاریخی لسانیانی تقابلی شواہد کے مطابق پروٹو دراوڑی لفظ وڑاکوئی(وَڑکئی) کے ’و‘۔’ڑ‘ اور’ک‘آوازیں براہوئی کے ’ب‘۔’ر‘اور’ہ‘ میں تبدیل ہونے کے بعد وڑاکوئی لفظ ’’براہوئی ‘‘میں تبدیل ہوگیا ۔ تفصیل کے لیے مندرجہ ذیل خاکہ ملاحظہ فرمائیں۔
پروٹودراوڑی لفظ و+اَ ‘ڑ+آ ‘ک+اُو ‘اِی
== آوازیں مصمتے: و ‘ ڑ ‘ ک
== آوازں؍مصمتوں کی تبدیلی: ب ‘ ر ‘ ک
== مصوتہ کی تبدیلی: اِ
نیاروپ: ب+اِ ‘ر+آ ھہ+اُو ‘ اِی
موجودہ لفظ: بِرا ھُو ئی

Bra+Ho+I
Brahui

درج بالا لسانی تقابل اور قدیمی تاریخی شواہد سے پتہ چلتاہے کہ پروٹو دراوڑی لفظ’وڑاکوئی‘‘چھ‘سات ہزار سال سے مختلف لسانی تبدیلوں کے بعد اپنا روپ بدل کر’’براہوئی‘‘ کا روپ اختیار کیا ہے۔
اس سے ظاہرہوتا ہے کہ پرواکہ‘پریکان‘پریکنوئی‘ پارواتا‘ پارادااور بروہی الفاظ پروٹودراوڑی لفظ وڑا کوئی کے غیر دراوڑی اور غیر براہوئی روپ ہیں جبکہ موجودہ ’’براہوئی‘‘ پروٹودراوڑی لفظ وڑاکوئی (وڑکئی)کی تبدیل شدہ صورت ہے۔براہوئی لفظ کی بنیاد یا ساخت ہند یورپی اور سامی نہیں بلکہ پروٹودراوڑی الاصل ہے۔جس کے معنی شمالی پہاڑی لوگ‘‘ (northeren mountaineers) کے ہیں(۱۳۲) اس لیے ’’براہوئی‘‘لفظ کی بنیاد‘ وجہ تسمیہ اور ساخت کو کسی اور لفظ سے جوڑنا یا قرار دینا صحیح نہیں ہے۔